سورہ An-Naml — آیت 15
چیونٹی · 27:15 · 15/93
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ
Walaqad atayna dawoodawasulaymana AAilman waqala alhamdulillahi allathee faddalana AAalakatheerin min AAibadihi almu'mineen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت دی
محمد جوناگڑھی
اور ہم نے یقیناً داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا۔ اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(دُوسری طرف)ہم نے داوٴدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور اُنہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ہم نے داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو علم عطا کیا تھا اور ان دونوں نے کہا کہ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مؤمن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ہم نے یقیناً داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا[1] ۔ اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے.
حواشی
[1] سورت کے شروع میں فرمایا گیا تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے سکھلایا جاتا ہے، اس کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا قصہ مختصراً بیان فرمایا اور اب دوسری دلیل حضرت داود (عليه السلام) وسلیمان (عليه السلام) کا یہ قصہ ہے۔ انبیا علیہم السلام کے یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم ہے جن سے حضرت حضرت داود (عليه السلام) اور سلیمان (عليه السلام) کو بطور خاص نوازا گیا تھا جیسے حضرت داود (صلى الله عليه وسلم) کو لوہے کی صنعت کاعلم اور حضرت سلیمان (عليه السلام) کو جانورون کی بولیوں کا علم عطا کیاگیا تھا۔ ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا، لیکن یہاں صرف علم کا ذکر کیاگیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہےکہ علم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔