سورہ An-Nahl — آیت 52
شہد کی مکھی · 16:52 · 52/128
وَلَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ
Walahu ma fee assamawatiwal-ardi walahu addeenu wasibanafaghayra Allahi tattaqoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو
محمد جوناگڑھی
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت ﻻزم ہے، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور خالصًا اُسی کا دین (ساری کائنات میں)چل رہا ہے۔ پھر کیا للہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقوٰی کرو گے؟“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کے لیے اطاعت ہے ہمیشہ ہمیش تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کا تقویٰ اختیار کرتے ہو
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت ﻻزم ہے[1] ، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟
حواشی
[1] اسی کی عبادت و اطاعت دائمی اور لازم ہے۔ وَاصِبٌ کے معنی ہمیشگی کے ہیں «وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ» (الصافات:9) ”ان کے لئے عذاب ہے ہمیشہ کا“، اور اس کا وہی مطلب ہے جو دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ «فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ، أَلا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ» (الزمر: 2۔3) ”پس اللہ کی عبادت کرو، اسی کے لئے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، خبردار! اسی کے لئے خالص بندگی ہے“۔