سورہ Al-Qasas — آیت 38
قصے · 28:38 · 38/88
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرِى فَأَوْقِدْ لِى يَـٰهَـٰمَـٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجْعَل لِّى صَرْحًا لَّعَلِّىٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ
Waqala firAAawnu ya ayyuhaalmalao ma AAalimtu lakum min ilahin ghayreefaawqid lee ya hamanu AAala atteenifajAAal lee sarhan laAAallee attaliAAuila ilahi moosa wa-innee laathunnuhumina alkathibeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور فرعون نے کہا کہ اے اہلِ دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر ایک (اُونچا) محل بنادو تاکہ میں موسٰی کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اُسے جھوٹا سمجھتا ہوں
محمد جوناگڑھی
فرعون کہنے لگا اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔ سن اے ہامان! تو میرے لیے مٹی کو آگ سے پکوا پھر میرے لیے ایک محل تعمیر کر تو میں موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اسے میں تو جھوٹوں میں سے ہی گمان کر رہا ہوں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور فرعون نے کہا”اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹاسمجھتا ہوں۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور فرعون نے کہا : اے درباریو ! میں تو اپنے سوا تمہارے لیے کسی معبود کو نہیں جانتا تو اے ہامان ! ذرا تم میرے لیے مٹی کی اینٹوں کو آگ سے پختہ کرو پھر میرے لیے ایک اونچا محل بنواؤ تاکہ میں جھانک سکوں موسیٰ کے الٰہ کو اور میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
فرعون کہنے لگا اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔ سن اے ہامان! تو میرے لیے مٹی کو آگ سے پکوا[1] پھر میرے لیے ایک محل تعمیر کر تو میں موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں[2] اسے میں تو جھوٹوں میں سے ہی گمان کر رہا ہوں.[3]
حواشی
[1] یعنی مٹی کو آگ میں تپا کر اینٹیں تیار کر۔ ہامان، فرعون کا وزیر، مشیر اور اس کے معاملات کا انتظام کرنے والا تھا۔ [2] یعنی ایک اونچا اور مضبوط محل تیار کر، جس پر چڑھ کر میں آسمان پر یہ دیکھ سکوں کہ وہاں میرے سوا کوئی اور رب ہے؟ [3] یعنی موسیٰ (عليه السلام) جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آسمانوں پر رب ہے جو ساری کائنات کا پالنہار ہے، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔