سورہ Al-Mulk — آیت 15

بادشاہ · 67:15 · 15/30

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ ذَلُولًا فَٱمْشُوا۟ فِى مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا۟ مِن رِّزْقِهِۦ ۖ وَإِلَيْهِ ٱلنُّشُورُ

Huwa allathee jaAAala lakumu al-ardathaloolan famshoo fee manakibihawakuloo min rizqihi wa-ilayhi annushoor

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہو) رزق کھاؤ اور تم کو اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے

محمد جوناگڑھی

وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاوٴ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین اور اس کے (دیے ہوئے) رزق سے کھائو پیو اور (یاد رکھو کہ تم نے) اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا[1] تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو[2] اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو[3]) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے.

حواشی

[1] ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کر دیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہوجاتا۔ [2] مناکب منکب کی جمع ہے ۔جانب یہاں اس سے مراد اس کے راستے اور اطراف و جوانب ہیں۔ امر اباحت کے لئے ہے، یعنی اس کے راستوں میں چلو۔ [3] یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔