سورہ Al-Mujadila — آیت 12
جھگڑنے والی · 58:12 · 12/22
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَـٰجَيْتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Ya ayyuha allatheena amanooitha najaytumu arrasoola faqaddimoo baynayaday najwakum sadaqatan thalika khayrunlakum waatharu fa-in lam tajidoo fa-inna Allahaghafoorun raheem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفورورحیم ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے اہل ایمان ! جب تم رسول ﷺ سے تخلیہ میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس بات چیت سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر بھی ہے اور زیادہ پاکیزہ بھی۔ البتہ اگر تم (صدقہ دینے کے لیے) کچھ نہ پائو تو اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو[1] یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے[2]، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
حواشی
[1] ہر مسلمان نبی سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کرنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی (صلى الله عليه وسلم) کو خاصی تکلیف ہوتی۔ بعض کہتے ہیں کہ منافقین یوں ہی بلا وجہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے مناجات میں مصروف رہتے تھے، جس سے مسلمان تکلیف محسوس کرتے تھے ، اس لیے اللہ نے یہ حکم نازل فرما دیا، تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے گفتگو کرنے کے رجحان عام کی حوصلہ شکنی ہو۔ [2] بہتر اس لیے کہ صدقے سے تمہارے ہی دوسرے غریب مسلمان بھائیوں کو فائدہ ہوگا اور پاکیزہ تر اس لیے کہ یہ ایک عمل صالح اور اطاعت الٰہی ہے جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امر بطور استحباب کے تھا، وجوب کے لیے نہیں۔