سورہ Al-Mujadila — آیت 11
جھگڑنے والی · 58:11 · 11/22
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا۟ فِى ٱلْمَجَـٰلِسِ فَٱفْسَحُوا۟ يَفْسَحِ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُوا۟ فَٱنشُزُوا۟ يَرْفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ دَرَجَـٰتٍ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
Ya ayyuha allatheena amanooitha qeela lakum tafassahoo fee almajalisifafsahoo yafsahi Allahu lakum wa-ithaqeela onshuzoo fanshuzoo yarfaAAi Allahu allatheenaamanoo minkum wallatheena ootoo alAAilmadarajatin wallahu bima taAAmaloonakhabeer
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو اللہ تمہیں کشادگی دے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والےہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہواللہ کو اس کی خبر ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے مسلمانو ! جب تمہیں کہا جائے کہ مجالس میں کھل کر بیٹھو تو کھل جایا کرو اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جایا کرو اللہ بلند فرما دے گا ان لوگوں کے درجات جو تم میں سے واقعی ایمان والے ہیں اور جن کو حقیقی علم عطا ہوا ہے۔ اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو[1] اللہ تمہیں کشادگی دے گا[2]، اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ[3] تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا[4]، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے.
حواشی
[1] اس میں مسلمانوں کو مجلس کے آداب بتلائے جارہے ہیں۔ مجلس کا لفظ عام ہے، جو ہر اس مجلس کو شامل ہے، جس میں مسلمان خیر اور اجر کے حصول کے لیے جمع ہوں، وعظ ونصیحت کی مجلس ہو یا جمعہ کی مجلس ہو۔ (تفسیر القرطبی) (کھل کر بیٹھو) کا مطلب ہے کہ مجلس کا دائرہ وسیع رکھو تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے بیٹھنے کی جگہ رہے۔ دائرہ تنگ مت رکھو کہ بعد میں آنے والے کو کھڑا رہنا پڑے یا کسی بیٹھے ہوئے کو اٹھاکر اس کی جگہ وہ بیٹھے کہ یہ دونوں باتیں ناشائستہ ہیں۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا ”کوئی شخص، کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے، اس لیے مجلس کے دائرے کو فراخ اور وسیع کر لو“۔ (صحيح بخاري، كتاب الجمعة ، باب لا يقيم الرجل أخاه يوم الجمعة ويقعد في مكانه ، وصحيح مسلم ، كتاب السلام ، باب تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه)۔ [2] یعنی اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں وسعت وفراخی عطا فرمائے گا یا جہاں بھی تم وسعت وفراخی کے طالب ہوگے ، مثلاً مکان میں، رزق میں، قبر میں۔ ہر جگہ تمہیں فراخی عطا فرمائے گا۔ [3] یعنی جہاد کے لیے، نماز کے لیے یا کسی بھی عمل خیر کے لیے۔ یا مطلب ہے کہ جب مجلس سے اٹھ کر جانے کو کہا جائے، تو فوراً چلے جاؤ۔ مسلمانوں کو یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نبی (صلى الله عليه وسلم) کی مجلس سے اٹھ کر جانا پسند نہیں کرتے تھے لیکن اس طرح بعض دفعہ ان لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی جو نبی (صلى الله عليه وسلم) سے خلوت میں کوئی گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ [4] یعنی اہل ایمان کے درجے، غیر اہل ایمان پر اور اہل علم کے درجے اہل ایمان پر بلند فرمائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کے ساتھ علوم دین سے واقفیت مزید رفع درجات کا باعث ہے۔