سورہ Al-Isra — آیت 30

رات کا صفر · 17:30 · 30/111

إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًا

Inna rabbaka yabsutu arrizqaliman yashao wayaqdiru innahu kana biAAibadihikhabeeran baseera

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

محمد جوناگڑھی

یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ۔ یقیناً وه اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

تیرا ربّ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یقیناً تمہارا رب کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) یقیناً وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا (اور ان کے حالات کو) دیکھنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشاده کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ[1] ۔ یقیناً وه اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے واﻻ ہے.

حواشی

[1] اس میں اہل ایمان کے لئے تسلی ہے کہ ان کے پاس وسائل رزق کی فروانی نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے اللہ کے ہاں ان کا مقام نہیں ہے بلکہ یہ رزق کی وسعت یا کمی، اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مصلحت سے ہے جسے صرف وہی جانتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کو قارون بنا دے اور اپنوں کو اتنا ہی دے کہ جس سے یہ مشکل وہ اپنا گذارہ کر سکیں۔ یہ اس کی مشیت ہے۔ جس کو وہ زیادہ دے، وہ اس کا محبوب نہیں، اور وہ قوت لا یموت کا مالک اس کا مبغوض نہیں۔