سورہ Al-Hajj — آیت 72
حج · 22:72 · 72/78
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍ تَعْرِفُ فِى وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ
Wa-itha tutla AAalayhim ayatunabayyinatin taAArifu fee wujoohi allatheena kafarooalmunkara yakadoona yastoona billatheenayatloona AAalayhim ayatina qulafaonabbi-okum bisharrin min thalikum annaruwaAAadaha Allahu allatheena kafaroo wabi'saalmaseer
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے
محمد جوناگڑھی
جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر ناخوشی کے صاف آﺛار پہچان لیتے ہیں۔ وه تو قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں، کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیاده بدتر خبر دوں۔ وه آگ ہے، جس کا وعده اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے، اور وه بہت ہی بری جگہ ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور جب اِن کو ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتیں ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرینِ حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں، اور ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹُوٹ پڑیں گے جو انھیں ہماری آیات سُناتے ہیں۔اِن سے کہو”میں بتاوٴں تمہیں کہ اِس سے بد تر چیز کیا ہے؟ آگ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے، جو قبولِ حق سے انکار کریں، اور بہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو تم دیکھتے ہو ان کافروں کے چہروں پر نا گواری کے آثار قریب ہوتے ہیں کہ ٹوٹ پڑیں ان پر جو ان کو ہماری آیت پڑھ کر سنا تے ہیں آپ ﷺ کہیے : کیا میں تمہیں اس سے بدتر چیز کی خبر دوں وہ ہے آگ ! جس کا وعدہ کیا ہے اللہ نے کافروں سے۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر ناخوشی کے صاف آﺛار پہچان لیتے ہیں۔ وه تو قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں[1] ، کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیاده بدتر خبر دوں۔ وه آگ ہے، جس کا وعده اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے[2]، اور وه بہت ہی بری جگہ ہے.
حواشی
[1] اپنے ہاتھوں سے دست درازی کرکے یا بد زبانی کے ذریعے سے۔ یعنی مشرکین اور اہل ضلالت کے لئے اللہ کی توحید اور رسالت و قیامت کا بیان ناقابل برداشت ہوتا ہے، جس کا اظہار، ان کے چہرے سے اور بعض دفعہ ہاتھوں اور زبانوں سے ہوتا ہے۔ یہی حال آج کے اہل بدعت اور گمراہ فرقوں کا ہے، جب ان کی گمراہی، قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کی جاتی ہے تو ان کا رویہ بھی آیات قرآنی اور دلائل کے مقابلے میں ایسا ہی ہوتا ہے، جس کی وضاحت اس آیت میں کی گئی ہے (فتح القدیر) [2] یعنی ابھی تو آیات الٰہی سن کر صرف تمہارے چہرے ہی حیران ہوتے ہیں۔ ایک وقت آئے گا، اگر تم نے اپنے اس روئیے سے توبہ نہیں کی، کہ اس سے کہیں زیادہ بدتر حالات سے تمہیں دو چار ہونا پڑے گا، اور وہ ہے جہنم کی آگ میں جلنا، جس کا وعدہ اللہ نے اہل کفر و شرک سے کر رکھا ہے۔