سورہ Al-Fath — آیت 18
فتح · 48:18 · 18/29
۞ لَّقَدْ رَضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَـٰبَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
Laqad radiya Allahu AAanialmu'mineena ith yubayiAAoonaka tahta ashshajaratifaAAalima ma fee quloobihim faanzala asakeenataAAalayhim waathabahum fathan qareeba
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی
محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سےبیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ راضی ہوگیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا } تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کردی اور انہیں (بدلے میں) ایک قریبی فتح بخشی
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے[1] ۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا[2] اور ان پر اطمینان نازل فرمایا[3] اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی.[4]
حواشی
[1] یہ ان اصحاب بیعت رضوان کے لئے رضائے الٰہی اور ان کے پکے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے، جنہوں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیں گے اور راہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔ [2] یعنی ان کے دلوں میں جو صدق وصفا کے جذبات تھے، اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ اس سے ان دشمنان صحابہ (رضي الله عنهم) کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ ان کا ایمان ظاہری تھا، دل سے وہ منافق تھے۔ [3] یعنی وہ نہتے تھے، جنگ کی نیت سی نہیں گئے تھے، اس لئے جنگی ہتھیار مطلوبہ تعداد میں نہیں تھے۔ اس کے باوجود جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) کا بدلہ لینے کے لئے ان سے جہاد کی بیعت لی تو بلا ادنیٰ تامل، سب لڑنے کے لئے تیار ہوگئے، یعنی ہم نے موت کا خوف ان کےدلوں سے نکال دیا اور اس کی جگہ صبر وسکینت ان پر نازل فرما دی جس کی بنا پر انہیں لڑنے کا حوصلہ ہوا۔ [4] اس سے مراد وہی فتح خیبر ہے جو یہودیوں کا گڑھ تھا، اور حدیبیہ سے واپسی پر مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔