سورہ Al-Bayyinah — آیت 4

ثبوت · 98:4 · 4/8

وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ

Wama tafarraqa allatheena ootooalkitaba illa min baAAdi ma jaat-humualbayyina

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد( ہوئے ہیں)

محمد جوناگڑھی

اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس  (راہِ راست کا) بیانِ واضح آچکا تھا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے تفرقہ نہیں کیا تھا مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس البیِّنہ آچکی تھی۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے.[1]

حواشی

[1] یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی آمد سے قبل مجتمع تھے، یہاں تک کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے، لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بعثت ورسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نکتہ ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ، یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالاں کہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیوں کہ یہ بہرحال علم والے تھے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔