سورہ Al-Baqarah — آیت 211
گائے · 2:211 · 211/286
سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَـٰهُم مِّنْ ءَايَةٍۭ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
Sal banee isra-eela kam ataynahummin ayatin bayyinatin waman yubaddil niAAmata Allahimin baAAdi ma jaat-hu fa-inna Allahashadeedu alAAiqab
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
محمد جوناگڑھی
بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وه جان لے) کہ اللہ تعالیٰ بھی سخت عذابوں واﻻ ہے
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
بنی اسرئیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انھیں دکھائی ہیں(اور پھر یہ بھی ان ہی سے پوچھ لو کہ )اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پوچھ لو بنی اسرائیل سے ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آگئی ہو تو (وہ جان لے کہ) اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں[1] اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وه جان لے)[2] کہ اللہ تعالیٰ بھی سخت عذابوں واﻻ ہے
حواشی
[1] مثلاً عصائے موسیٰ، جس کے ذریعے سے ہم نے جادوگروں کا توڑ کیا، سمندر سے راستہ بنایا، پتھر سے بارہ چشمے جاری کئے، بادلوں کا سایہ، من وسلویٰ کا نزول وغیرہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ہمارے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کے دلیل تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے احکام الٰہی سے اعراض کیا۔ [2] نعمت کے بدلنے کے مطلب یہی ہے کہ ایمان کے بدلے انہوں نے کفر اور اعراض کا راستہ اپنایا۔