سورہ Al-Baqarah — آیت 117
گائے · 2:117 · 117/286
بَدِيعُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
BadeeAAu assamawatiwal-ardi wa-itha qada amran fa-innamayaqoolu lahu kun fayakoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے .
محمد جوناگڑھی
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
وہ نیا پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ کسی معاملے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے۔[1]
حواشی
[1] یعنی وہ اللہ تو وہ ہے کہ آسمان وزمین کی ہر چیز کا وہ مالک ہے، ہر چیز اس کی فرماں بردار ہے، بلکہ آسمان وزمین کا بغیر کسی نمونے کے بنانے والا بھی وہی ہے۔ علاوہ ازیں وہ جو کام کرنا چاہے اس کے لئے اسے صرف لفظ کن کافی ہے۔ ایسی ذات کو بھلا اولاد کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے؟۔