سورہ Al-Baqarah — آیت 115

گائے · 2:115 · 115/286

وَلِلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

Walillahi almashriqu walmaghribufaaynama tuwalloo fathamma wajhu Allahi inna AllahawasiAAun AAaleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

محمد جوناگڑھی

اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رُخ کرو گے ، اسی طرف اللہ کا رُخ ہےاللہ بڑی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں یقیناً اللہ بہت وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے[1] ، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے۔

حواشی

[1] ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں اس وقت نازل ہوئی جب بیت المقدس سے، پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، بعض کے نزدیک اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ کدھر بھی ہو، نماز پڑھ سکتے ہو۔ کبھی چند اسباب جمع ہوجاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لئے ایک ہی آیت نازل ہوجاتی ہے۔ ایسی آیتوں کے شان نزول میں متعدد روایات مروی ہوتی ہیں، کسی روایت میں ایک سبب نزول کا بیان ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے کا۔ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے (ملخص از احسن التفاسیر)۔