سورہ Al-Baqarah — آیت 114
گائے · 2:114 · 114/286
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَـٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ وَسَعَىٰ فِى خَرَابِهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Waman athlamu mimman manaAAamasajida Allahi an yuthkara feehaismuhu wasaAAa fee kharabiha ola-ikama kana lahum an yadkhulooha illa kha-ifeenalahum fee addunya khizyun walahum fee al-akhiratiAAathabun AAatheem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب
محمد جوناگڑھی
اس شخص سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے اس میں جانا چاہیئے، ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہےاور آخرت میں عذاب عظیم
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں سے (لوگوں کو) روکے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے ؟ اور وہ ان کی تخریب کے درپے ہو ؟ ایسے لوگوں کو تو ان میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں بھیّ ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم ہے