سورہ Al-Baqarah — آیت 113
گائے · 2:113 · 113/286
وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ لَيْسَتِ ٱلنَّصَـٰرَىٰ عَلَىٰ شَىْءٍ وَقَالَتِ ٱلنَّصَـٰرَىٰ لَيْسَتِ ٱلْيَهُودُ عَلَىٰ شَىْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ ٱلْكِتَـٰبَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
Waqalati alyahoodu laysati annasaraAAala shay-in waqalati annasaralaysati alyahoodu AAala shay-in wahum yatloona alkitabakathalika qala allatheena layaAAlamoona mithla qawlihim fallahu yahkumubaynahum yawma alqiyamati feema kanoo feehiyakhtalifoon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
محمد جوناگڑھی
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں، حاﻻنکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بےعلم بھی کہتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کردے گا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہودی کہتے ہیں : عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں۔ عیسا ئی کہتے ہیں : یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں۔ اور اسی قسم کے دعوے ان لوگو ں کے بھی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے۔ یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں ہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو کچھ بھی نہیں جانتے ان ہی کی سی بات۔) پس اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان تمام باتوں کا جن میں یہ اختلاف کر رہے تھے۔