سورہ Al-'Ankabut — آیت 65
مکڑی · 29:65 · 65/69
فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
Fa-itha rakiboo fee alfulki daAAawooAllaha mukhliseena lahu addeena falammanajjahum ila albarri itha hum yushrikoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں
محمد جوناگڑھی
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس سے دُعا مانگتے ہیں، پھر جب وہ اِنہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
سو جب یہ لوگ سوار ہوتے ہیں کشتی میں تو پکارتے ہیں اللہ کو اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے خشکی کی طرف تو جبھی وہ شرک کرنے لگتے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں.[1]
حواشی
[1] مشرکین کے اس تناقض کو بھی قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس تناقض کو حضرت عکرمہ (رضي الله عنه) سمجھ گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوگئی۔ ان کے متعلق آیا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ مکہ سے فرار ہوگئے تاکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی گرفت سے بچ جائیں۔ یہ حبشہ جانے کے لئے ایک کشتی میں بیٹھے، کشتی گرداب میں پھنس گئی، تو کشتی میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ پورے خلوص سے رب سے دعائیں کرو، اس لئےکہ یہاں اس کےعلاوہ کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ حضرت عکرمہ (رضي الله عنه) نے یہ سن کر کہا کہ اگر یہاں سمندر میں اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اور اسی وقت اللہ سے عہد کر لیا کہ اگر میں یہاں سے بخیرت ساحل پر پہنچ گیا تو میں محمد (صلى الله عليه وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا یعنی مسلمان ہو جاؤں گا، چنانچہ یہاں سے نجات پاکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا (رضي الله عنه)۔ (ابن کثیر بحوالہ سیرت محمد بن اسحاق)