سورہ Al-'Ankabut — آیت 64
مکڑی · 29:64 · 64/69
وَمَا هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ لَهِىَ ٱلْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
Wama hathihi alhayatuaddunya illa lahwun walaAAibun wa-inna addaraal-akhirata lahiya alhayawanu law kanooyaAAlamoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور( ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے
محمد جوناگڑھی
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی کا گھر تو دارِ آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کا گھر ہی یقیناً اصل زندگی ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے[1] البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے[2]، کاش! یہ جانتے ہوتے.[3]
حواشی
[1] یعنی جس دنیا نے انہیں آخرت سے اندھا اور اس کے لئے توشہ جمع کرنے سے غافل رکھا ہے، وہ ایک کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، کافر دنیا کے کاروبار میں مشغول رہتا ہے، اس کے لئے شب روز محنت کرتا ہے لیکن جب مرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس طرح بچے سارا دن مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے ہیں، پھر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، سوائے تھکاوٹ کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ [2] اس لئے ایسےعمل صالح کرنے چاہئے جن سے آخرت کا یہ گھر سنور جائے۔ [3] کیونکہ اگر وہ یہ بات جان لیتے تو آخرت سے بے پرواہ ہو کر دنیا میں مگن نہ ہوتے۔ اس لئے انکا علاج علم ہے، علم شریعت۔