سورہ Al-'Ankabut — آیت 33

مکڑی · 29:33 · 33/69

وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ

Walamma an jaat rusulunalootan see-a bihim wadaqa bihim tharAAan waqaloola takhaf wala tahzan inna munajjookawaahlaka illa imraataka kanat mina alghabireen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے۔ اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

محمد جوناگڑھی

پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر جب ہمارے فرستادے لُوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا۔ اُنہوں نے کہا”نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب ہمارے فرستادے لوط ؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے بہت پریشان اور دل تنگ ہوا انہوں نے کہا کہ آپ ؑ خوف نہ کھائیں اور نہ آپ ؑ رنجیدہ ہوں ہم تو نجات دینے والے ہیں آپ ؑ کو بھی اور آپ ؑ کے اہل خانہ کو بھی سوائے آپ ؑ کی بیوی کے وہ ہوگی پیچھے رہ جانے والوں میں سے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے[1] ۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی[2] بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی.

حواشی

[1] سِيءَ بِهِمْ کے معنی ہیں۔ ان کے پاس ایسی چیز آئی جو انہیں بری لگی اور اس سے ڈر گئے۔ اس لیے کہ لوط (عليه السلام) نے ان فرشتوں کو، جو انسانی شکل میں آئے تھے، انسان ہی سمجھا۔ ڈرے اپنی قوم کی عادت بد اور سرکشی کی وجہ سے کہ ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کا علم اگر انہیں ہوگیا تو وہ ان سے زبردستی بےحیائی کا ارتکاب کریں گے، جس سے میری رسوائی ہوگی۔ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا یہ کنایہ ہے عاجزی سے۔ جیسے ضَاقَتْ يَدُهُ (ہاتھ کا تنگ ہونا) کنایہ ہے فقر سے۔ یعنی ان خوش شکل مہمانوں کو بدخصلت قوم سے بچانے کی کوئی تدبیر انہیں نہیں سوجھی، جس کی وجہ سے وہ غمگین اور دل ہی دل میں پریشان تھے۔ [2] فرشتوں نے حضرت لوط (عليه السلام) کی اس پریشانی اور غم وحزن کی کیفیت کو دیکھا تو انہیں تسلی دی، اور کہا کہ آپ کوئی خوف اور حزن نہ کریں، ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ ہمارا مقصد آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو، سوائے آپ کی بیوی کے، نجات دلانا ہے۔