سورہ Al-Anfal — آیت 9

مال غنیمت · 8:9 · 9/75

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

Ith tastagheethoona rabbakum fastajabalakum annee mumiddukum bi-alfin mina almala-ikatimurdifeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

محمد جوناگڑھی

اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یاد کرو جبکہ تم لوگ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی تھی کہ میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ جو پے درپے آئیں گے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔[1]

حواشی

[1] اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی، جب کہ کافر اس سے 3 گنا (یعنی ہزار کے قریب) تھے، پھر مسلمان نہتے اور بے سروسامان تھے جب کہ کافروں کے پاس اسلحے کی بھی فراوانی تھی۔ ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ ہی کی ذات تھی، جس سے وہ گڑگڑا کر مدد کی فریادیں کررہے تھے۔ خود نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح وزاری سے مصروف دعا تھے۔ (صحیح بخاری ۔ کتاب المغازی) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعائیں قبول کیں اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لیے آگئے۔