سورہ Al-Anfal — آیت 5
مال غنیمت · 8:5 · 5/75
كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَـٰرِهُونَ
Kama akhrajaka rabbuka min baytika bilhaqqiwa-inna fareeqan mina almu'mineena lakarihoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی
محمد جوناگڑھی
جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جیسے کہ نکالا آپ کو (اے نبی ﷺ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ اور یقیناً اہل ایمان میں سے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا[1] اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔[2]
حواشی
[1] یعنی جس طرح مال غنیمت کی تقسیم کا معاملہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا تھا۔ پھر اسے اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے حوالہ کردیا گیا تو اسی میں مسلمانوں کی بہتری تھی، اسی طرح آپ کا مدینہ سے نکلنا، اور پھر آگے چل کر تجارتی قافلے کے بجائے، لشکر قریش سے مدبھیڑ ہوجانا، گو بعض طبائع کے لیے ناگوار تھا، لیکن اس میں بھی بالاخر فائدہ مسلمانوں ہی کا ہوگا۔ [2] یہ ناگواری لشکر قریش سے لڑنے کے معاملے میں تھی، جس کا اظہار چند ایک افراد کی طرف سے ہوا اور اس کی وجہ بھی صرف بے سروسامانی تھی۔ اس کا تعلق مدینہ سے نکلنے سے نہیں ہے۔