سورہ Al-Anbya — آیت 35

پیغمبر · 21:35 · 35/112

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ

Kullu nafsin tha-iqatu almawtiwanablookum bishsharri walkhayri fitnatanwa-ilayna turjaAAoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے

محمد جوناگڑھی

ہر جان دار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہے۔ ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہر جاندار کو موت کا مزّہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم آزماتے رہتے ہیں تم لوگوں کو شر اور خیر کے ذریعے سے اور تم سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا دیے جاؤ گے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہر جان دار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہے۔ ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں [1] اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے.[2]

حواشی

[1] یعنی کبھی مصائب و رنج و غم سے دو چار کرکے اور کبھی دنیا کے وسائل فراواں سے بہرور کر کے۔ کبھی صحت و فراخی کے ذریعے سے اور کبھی تنگی و بیماری کے ذریعے سے، کبھی تونگری دیکر اور کبھی فقرو فاقہ میں مبتلا کر کے ہم آزماتے ہیں۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ شکر گزاری کون کرتا ہے اور ناشکری کون؟ صبر کون کرتا ہے اور ناصبری کون؟ شکر اور صبر، یہ رضائے الٰہی کا اور کفران نعمت اور ناصبری غضب الٰہی کا موجب ہے۔ [2] وہاں تمہارے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دیں گے۔ اول الذکر لوگوں کے لئے بھلائی اور دوسروں کے لئے برائی۔