سورہ Al-An'am — آیت 85
مویشی · 6:85 · 85/165
وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
Wazakariyya wayahyawaAAeesa walyasa kullun mina assaliheen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے
محمد جوناگڑھی
اور (نیز) زکریا کو اور یحيٰ کو اور عیسیٰ کو اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں سے تھے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(اُسی کی اولاد سے) زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ اور الیاسؑ کو (راہ یاب کیا) ہر ایک ان میں سے صالح تھا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (اُسی کی اولاد میں سے) زکریا ؑ یحییٰ ؑ عیسیٰ ؑ اور الیاس ؑ کو بھی۔ یہ سب کے سب نیکوکاروں میں سے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور (نیز) زکریا کو اور یحيٰ کو اور عیسیٰ[1] کو اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں سے تھے۔
حواشی
[1] عیسیٰ (عليه السلام) کا ذکر حضرت نوح (عليه السلام) یا حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی اولاد میں اس لئے کیا گیا ہے (حالانکہ ان کا باپ نہیں تھا) کہ لڑکی کی اولاد بھی ذریت رجال میں ہی شمار ہوتی ہے۔ جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت حسن (رضي الله عنه) (اپنی بیٹی حضرت فاطمہ (رضی الله عنها) کے صاحبزادے) کو اپنا بیٹا فرمایا ”إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللهَ أنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ“ صحيح بخاري ، كتاب الصلح، باب قول النبي للحسن بن علي، ابني هذا سيد ( تفصیل کے لئے دیکھیئے تفسیر ابن کثیر)