سورہ Al-An'am — آیت 51
مویشی · 6:51 · 51/165
وَأَنذِرْ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِىٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
Waanthir bihi allatheena yakhafoonaan yuhsharoo ila rabbihim laysa lahum min doonihiwaliyyun wala shafeeAAun laAAallahum yattaqoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں
محمد جوناگڑھی
اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع، اس امید پر کہ وه ڈر جائیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ا ے محمد ؐ ! تم اِس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے ربّ کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبّہ ہو کر) وہ خداترسی کی روش اختیار کرلیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور خبردار کردیجیے اس (قرآن) کے ذریعے سے ان لوگوں کو جنہیں واقعتا کچھ خوف ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے اس حال میں کہ ان کے لیے نہیں ہوگا اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا شاید کہ (اس طرح سمجھانے سے) ان میں کچھ تقویٰ پیدا ہوجائے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع، اس امید پر کہ وه ڈر جائیں۔[1]
حواشی
[1] یعنی انذار کا فائدہ ایسی ہی لوگوں کو ہوسکتا ہے، ورنہ جو بعث بعد الموت اور حشر ونشر پر یقین ہی نہیں رکھتے، وہ اپنے کفر وجحود پر ہی قائم رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں ان اہل کتاب اور کافروں اور مشرکوں کا رد بھی ہے جو اپنے آبا اور اپنے بتوں کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ نیز کارساز اور سفارشی نہیں ہوگا کا مطلب، یعنی ان کے لئے جو عذاب جہنم کے مستحق قرار پاچکے ہوں گے۔ ورنہ مومنوں کے لئے تو اللہ کے نیک بندے، اللہ کے حکم سے سفارش کریں گے۔ یعنی شفاعت کی نفی اہل کفر وشرک کے لئے ہے اور اس کا اثبات ان کے لئے جو گناہ گار مومن وموحد ہوں گے، اسی طرح دونوں قسم کی آیات میں کوئی تعارض بھی نہیں رہتا۔