سورہ Al-An'am — آیت 50
مویشی · 6:50 · 50/165
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمْ عِندِى خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمْ إِنِّى مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
Qul la aqoolu lakum AAindee khaza-inuAllahi wala aAAlamu alghayba wala aqoolulakum innee malakun in attabiAAu illa ma yoohailayya qul hal yastawee al-aAAma walbaseeruafala tatafakkaroon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے۔ سو کیا تم غور نہیں کرتے؟
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے محمد ؐ ! ان سے کہو، ”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہو جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے“۔ پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے نبی ﷺ ان سے) کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے اختیار میں ہیں اللہ کے خزانے اور نہ (میں نے دعویٰ کیا ہے کہ) مجھے غیب کا علم حاصل ہے اور نہ میں نے (کبھی) یہ کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں میں تو بس اتباع کر رہا ہوں اس شے کیا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے کہیے تو کیا اب برابر ہوجائیں گے اندھے اور دیکھنے والے ؟ تو کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟