سورہ Al-An'am — آیت 33

مویشی · 6:33 · 33/165

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

Qad naAAlamu innahu layahzunuka allatheeyaqooloona fa-innahum la yukaththiboonaka walakinnaaththalimeena bi-ayatiAllahi yajhadoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

محمد جوناگڑھی

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے محمدؐ ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ ہمیں خوب معلوم ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس سے آپ غمگین ہوتے ہیں تو (اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے) یقیناً وہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔[1]

حواشی

[1] نبی (صلى الله عليه وسلم) کو کفار کی طرف اپنی تکذیب کی وجہ سے جو غم وحزن پہنچتا، اس کے ازالے اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ تکذیب آپ کی نہیں۔ (آپ کو تو وہ صادق وامین مانتے ہیں) دراصل یہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے اوریہ ایک ظلم ہے۔ جس کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی ایک روایات میں ہے کہ ابوجہل نے ایک بار رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے کہا اے محمد! ہم تم کو نہیں بلکہ جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کو جھٹلاتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ترمذی کی یہ راویت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن دوسری صحیح روایات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ کفار مکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی امانت ودیانت اور صداقت کے قائل تھے، لیکن اس کے باوجود وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے سے گریزاں رہے۔ آج بھی جو لوگ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے حسن اخلاق، رفعت کردار اور امانت وصداقت کو تو خوب جھوم جھوم کر بیان کرتے اور اس موضوع پر فصاحت وبلاغت کے دریا بہاتے ہیں لیکن اتباع رسول (صلى الله عليه وسلم) میں وہ انقباض محسوس کرتے آپ کی بات کے مقابلے میں فقہ وقیاس اور اقوال ائمہ کو ترجیح دیتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیئے کہ یہ کس کا کردار ہے جسے انہوں نے اپنایا ہوا ہے؟