سورہ Al-An'am — آیت 148

مویشی · 6:148 · 148/165

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ

Sayaqoolu allatheena ashrakoo law shaaAllahu ma ashrakna wala abaonawala harramna min shay-in kathalikakaththaba allatheena min qablihim hattathaqoo ba'sana qul hal AAindakum min AAilminfatukhrijoohu lana in tattabiAAoona illa aththannawa-in antum illa takhrusoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو

محمد جوناگڑھی

یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کامزه چکھا۔ آپ کہیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے روبرو ﻇاہر کرو۔ تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے“۔ ایسی ہی باتیں بنا بنا کر اِن سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ”کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

عنقریب کہیں گے یہ مشرک لوگ کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے آباء و اَجداد اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزا چکھ لیا (آپ ﷺ ان سے) کہیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے جسے تم ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان کی پیروی کر رہے ہو اور صرف اندازوں اور اٹکل کی باتیں کرتے ہو