سورہ Al-An'am — آیت 130
مویشی · 6:130 · 130/165
يَـٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَـٰفِرِينَ
Ya maAAshara aljinni wal-insialam ya'tikum rusulun minkum yaqussoona AAalaykum ayateewayunthiroonakum liqaa yawmikum hatha qalooshahidna AAala anfusina wagharrat-humu alhayatuaddunya washahidoo AAala anfusihim annahumkanoo kafireen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے
محمد جوناگڑھی
اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) ”اے گروہِ جِن و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے“؟ وہ کہیں گے ”ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں“۔ آج دُنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس نہیں آگئے تھے رسول تم ہی میں سے جو سناتے تھے تمہیں میری آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہارے اس دن کی ملاقات سے۔ وہ کہیں گے کہ ہم گواہ ہیں اپنی جانوں پر اور انہیں دھوکے میں ڈالے رکھا دنیوی زندگی نے اور وہ خود گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ وہ یقیناً کفر کی روش پر چلتے رہے