سورہ Al-An'am — آیت 125

مویشی · 6:125 · 125/165

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَـٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

Faman yuridi Allahu an yahdiyahuyashrah sadrahu lil-islami waman yurid an yudillahuyajAAal sadrahu dayyiqan harajan kaannamayassaAAAAadu fee assama-i kathalikayajAAalu Allahu arrijsa AAala allatheenala yu'minoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

محمد جوناگڑھی

سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشاده کر دیتا ہے اور جس کو بے راه رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ ﻻنے والوں پر ناپاکی مسلط کردیتا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصوّر کرتے ہی) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی رُوح آسمان کی طرف پرواز کررہی ہے۔ اس طرح اللہ ( حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی اُن لوگوں پر مسلّط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو اللہ جس کسی کو ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو بالکل تنگ کردیتا ہے گھٹا ہوا (وہ ایسے محسوس کرتا ہے) گویا اسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہے اس طرح اللہ ناپاکی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے