سورہ Al-An'am — آیت 124

مویشی · 6:124 · 124/165

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

Wa-itha jaat-hum ayatunqaloo lan nu'mina hatta nu'ta mithlama ootiya rusulu Allahi Allahu aAAlamu haythuyajAAalu risalatahu sayuseebu allatheenaajramoo sagharun AAinda Allahi waAAathabunshadeedun bima kanoo yamkuroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

محمد جوناگڑھی

اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے، اس موقع کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وه اپنی پیغمبری رکھے؟ عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا ہے اللہ کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچے گی اور ان کی شرارتوں کے مقابلے میں سخت سزائیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ”ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسُولوں کو دی گئی ہے“۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے۔ قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکّاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلّت اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب ان کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی چیز نہ دے دی جائے جو اللہ کے (دوسرے) رسولوں کو دی گئی تھی اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ! عنقریب پہنچے گی ان مجرموں (گنہگاروں) کو بہت ہی ذلت اللہ کے ہاں سے اور سخت عذاب ان کی چال بازیوں کے سبب جو وہ کر رہے ہیں