سورہ Al-'Alaq — آیت 4
جما ہوا خون · 96:4 · 4/19
ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ
Allathee AAallama bilqalam
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
محمد جوناگڑھی
جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جس نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا.[1]
حواشی
[1] قَلَمٌ کے معنی ہیں قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے، اس لئے آلۂ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔ کچھ علم تو انسان کے ذہن میں ہوتا ہے، کچھ کا اظہار زبان کے ذریعے سے ہوتا ہے اور کچھ انسان قلم سے کاغذ پر لکھ لیتا ہے۔ ذہن وحافظہ میں جو ہوتا ہے، وہ انسان کے ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔ زبان سے جس کا اظہار کرتا ہے، وہ بھی محفوظ نہیں رہتا۔ البتہ قلم سے لکھا ہوا، اگر وہ کسی وجہ سے ضائع نہ ہو تو ہمیشہ محفوظ رہتا ہے، اسی قلم کی بدولت تمام علوم، پچھلے لوگوں کی تاریخیں اور اسلاف کا علمی ذخیرہ محفوظ ہے۔ حتیٰ کہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کا بھی ذریعہ ہے۔ اس سے قلم کی اہمیت محتاج وضاحت نہیں رہتی۔ اسی لئے اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس کو تمام مخلوقات کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔