سورہ Al-A'raf — آیت 82

اونچی جگہ · 7:82 · 82/206

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ

Wama kana jawabaqawmihi illa an qaloo akhrijoohum min qaryatikuminnahum onasun yatatahharoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

محمد جوناگڑھی

اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا، بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ”نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے ، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو نہیں تھا اس کی قوم کا کوئی جواب سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا نکالو ان کو اپنی بستی سے یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا، بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔[1]

حواشی

[1] یہ حضرت لوط کو بستی سے نکالنے کی علت ہے۔ باقی ان کی پاکیزگی کا اظہار یا تو حقیقت کے طور پر ہے اور مقصد ان کا یہ ہوا کہ یہ لوگ اس برائی سے بچنا چاہتے ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ یہ ہمارے ساتھ ہماری بستی ہی میں نہ رہیں یا استہزا اور تمسخر کے طور پر انہوں نے ایسا کہا ۔