سورہ Al-A'raf — آیت 5
اونچی جگہ · 7:5 · 5/206
فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ
Fama kana daAAwahum ithjaahum ba'suna illa an qaloo innakunna thalimeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
محمد جوناگڑھی
سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منھ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ﻇالم تھے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور جب ہمارا عذاب اُن پر آگیا تو ان کی زبان پر اِس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو پھر ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں تھی جب ان پر ہمارا عذاب آپڑا کہ (ہائے ہماری شامت) بیشک ہم ہی ظالم تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منھ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ﻇالم تھے۔[1]
حواشی
[1] لیکن عذاب آجانے کے بعد ایسے اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے وضاحت گذر چکی ہے «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا» (المؤمن: 85) ”جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان لانا، ان کے لئے نفع مند نہیں ہوا“۔