سورہ Al-A'raf — آیت 4
اونچی جگہ · 7:4 · 4/206
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَـٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ
Wakam min qaryatin ahlaknahafajaaha ba'suna bayatan aw hum qa-iloon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے
محمد جوناگڑھی
اور بہت بستیوں کو ہم نے تباه کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وه دوپہر کے وقت آرام میں تھے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جب وہ آرام کر رہے تھے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
) اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر آپڑا ہمارا عذاب جب وہ رات کو سو رہے تھے یا جب دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور بہت بستیوں کو ہم نے تباه کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وه دوپہر کے وقت آرام میں تھے۔[1]
حواشی
[1] ”قَائِلُونَ“ قَيْلُولَةٌ سے ہے، جو دوپہر کے وقت استراحت (آرام کرنے) کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارا عذاب اچانک ایسے وقتوں میں آیا جب وہ آرام و راحت کے لئے بے خبر بستروں میں آسودۂ خواب تھے۔