سورہ Al-A'raf — آیت 3

اونچی جگہ · 7:3 · 3/206

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ

IttabiAAoo ma onzila ilaykum minrabbikum wala tattabiAAoo min doonihi awliyaaqaleelan ma tathakkaroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو

محمد جوناگڑھی

تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لوگو، جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے ربّ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔۔۔ مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پیروی کرو اس کی جو نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اور مت پیروی کرو اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی۔ کم ہی ہے جو نصیحت تم حاصل کرتے ہو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے[1] اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔

حواشی

[1] جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ ”میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں“۔ ان دونوں کا اتباع ضروری ہے۔ ان کے علاوہ کسی کا اتباع ضروری نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسا کہ اگلے فقرے میں فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو“۔ جس طرح زمانۂ جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی حتیٰ کہ حلال وحرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔