سورہ Al-A'raf — آیت 2

اونچی جگہ · 7:2 · 2/206

كِتَـٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

Kitabun onzila ilayka falayakun fee sadrika harajun minhu litunthirabihi wathikra lilmu'mineen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے

محمد جوناگڑھی

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ سے ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے محمد ﷺ ، تمہارے دل میں اس سے کوءی جھجک نہ ہو۔ اس کے اُتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو)ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہ کتاب ہے (اے نبی ﷺ جو آپ پر نازل کی گئی ہے تو نہیں ہونی چاہیے آپ کے دل میں کچھ تنگی اس کی وجہ سے (یہ تو اس لیے ہے) تاکہ اس کے ذریعے سے آپ ﷺ خبردارکریں اور یہ یاد دہانی ہے اہل ایمان کے لیے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ سے ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو[1] اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے۔

حواشی

[1] یعنی اس کے ابلاغ سے آپ کا دل تنگ نہ ہو کہ کہیں کافر میری تکذیب نہ کریں اور مجھے ایذا نہ پہنچائیں اس لئے کہ اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہے یا حرج شک کے معنی میں ہے یعنی اس کے منزّل من اللہ ہونے کے بارے میں آپ اپنے سینے میں شک محسوس نہ کریں۔ یہ نہی بطور تعریض ہے اور اصل مخاطب امّت ہے کہ وہ شک نہ کرے۔