سورہ Al-A'raf — آیت 164

اونچی جگہ · 7:164 · 164/206

وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

Wa-ith qalat ommatun minhumlima taAAithoona qawman Allahu muhlikuhum awmuAAaththibuhum AAathaban shadeedan qaloomaAAthiratan ila rabbikum walaAAallahum yattaqoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں

محمد جوناگڑھی

اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے واﻻ ہے یا ان کو سخت سزا دینے واﻻ ہے؟ انہو ں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ کیوں نصیحت کر رہے ہو ان لوگوں کو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا پھر انہیں عذاب دینے والا ہے بہت سخت عذاب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب کے ہاں معذرت پیش کرنے کے لیے اور شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کر ہی لیں