سورہ Al-A'raf — آیت 165

اونچی جگہ · 7:165 · 165/206

فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦٓ أَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذْنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ بِعَذَابٍۭ بَـِٔيسٍۭ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

Falamma nasoo ma thukkiroobihi anjayna allatheena yanhawna AAani assoo-iwaakhathna allatheena thalamoobiAAathabin ba-eesin bima kanoo yafsuqoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے

محمد جوناگڑھی

سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

آخر کا ر جب اُن ہدایات کو با لکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو بُرائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر جب انہوں نے نظرانداز کردیا اس نصیحت کو جو انہیں کی جار ہی تھی تو ہم نے بچالیا ان کو جو برائی سے روکتے تھے اور پکڑلیا ہم نے ان کو جو ظلم کے مرتکب ہوئے تھے بہت ہی برے عذاب میں ان کی نافرمانی کے سبب

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا[1] تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔[2]

حواشی

[1] یعنی وعظ ونصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے ۔ [2] یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنا لیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپناشیوہ اور وطیرہ بنا لیا ۔