سورہ Al-A'raf — آیت 163

اونچی جگہ · 7:163 · 163/206

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

Was-alhum AAani alqaryati allatee kanathadirata albahri ith yaAAdoona fee assabtiith ta'teehim heetanuhum yawma sabtihimshurraAAan wayawma la yasbitoona la ta'teehim kathalikanabloohum bima kanoo yafsuqoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے

محمد جوناگڑھی

اور آپ ان لوگوں سے، اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور ذرا اِ ن سے اُس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی ۔ اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سَبْت (ہفتہ) کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن اُبھر اُبھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں اور سَبْت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیےہوتا تھا کہ ہم ان کی نافر مانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ان سے ذراپوچھئے اس بستی کے بارے میں جو ساحل سمندر پر تھی جب کہ وہ سبت کے قانون میں حد سے تجاوز کرنے لگے جب کہ آتی تھیں ان کی مچھلیاں ان کے پاس ہفتے کے دن چھلانگیں لگاتی ہوئی اور جس دن سبت نہیں ہوتا تھا وہ ان کے قریب نہیں آتی تھیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور آپ ان لوگوں سے[1] ، اس بستی والوں کا[2] جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔[3]

حواشی

[1] ”وَسْئَلْهُمْ“ میں ”هُمْ“ ضمیر سے مراد یہود ہیں ۔ یعنی ان سے پوچھئے۔ اس میں یہودیوں کو یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اس واقعے کا علم نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو بھی ہے جو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اس واقعے کا علم نہیں ہوسکتا تھا ۔ [2] اس بستی کی تعیین میں اختلاف ہے، کوئی اس کا نام ایلہ کوئی طبریہ کوئی ایلیا اور کوئی شام کی کوئی بستی، جو سمندر کے قریب تھی، بتلاتا ہے ۔ مفسرین کا زیادہ رجحان ”ایلہ“ کی طرف ہے جو مدین اور کوہ طور کے درمیان دریائے قلزم کے ساحل پر تھی۔ [3] ”حِيتَانٌ“ حُوتٌ ( مچھلی ) کی جمع ہے۔ ”شُرَّعًا“ شَارِعٌ کی جمع ہے ۔ معنی ہیں پانی کے اوپر ابھر ابھر کر آنے والیاں ۔ یہ یہودیوں کے اس واقعے کی طرف اشارہ ہیں جس میں انہیں ہفتے والے دن مچھلیوں کا شکار کرنے سے منع کردیا گیا تھا ۔ لیکن بطور آزمائش ہفتے والے دن مچھلیاں کثرت سے آتیں اور پانی کے اوپر ظاہر ہوہو کر انہیں دعوت شکار دیتیں ۔ اور جب یہ دن گزر جاتا تو اس طرح نہ آتیں۔ بالآخر یہودیوں نے ایک حیلہ کرکے حکم الٰہی سے تجاوز کیا کہ گڑھے کھود لیے تا کہ مچھلیاں اس میں پھنسی رہیں اور جب ہفتے کا دن گزر جاتا تو پھر انہیں پکڑ لیتے۔