سورہ Yusuf — آیت 66

یوسف · 12:66 · 66/111

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

Qala lan orsilahu maAAakum hattatu'tooni mawthiqan mina Allahi lata'tunnanee bihi illaan yuhata bikum falamma atawhu mawthiqahum qalaAllahu AAala ma naqoolu wakeel

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے

محمد جوناگڑھی

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا! میں تو اسے ہرگز ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں رکھ کر مجھے قول وقرار نہ دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لئے جاؤ۔ جب انہوں نے پکا قول قرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے