سورہ Yusuf — آیت 65

یوسف · 12:65 · 65/111

وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَـٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَـٰذِهِۦ بِضَـٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ

Walamma fatahoo mataAAahumwajadoo bidaAAatahum ruddat ilayhim qaloo yaabana ma nabghee hathihi bidaAAatunaruddat ilayna wanameeru ahlana wanahfathuakhana wanazdadu kayla baAAeerin thalikakaylun yaseer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے

محمد جوناگڑھی

جب انہوں نے اپنا اسباب کھوﻻ تو اپنا سرمایہ موجود پایا جو ان کی جانب لوٹا دیا گیا تھا۔ کہنے لگے اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہیئے۔ دیکھئے تو یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کو رسد ﻻدیں گے اور اپنے بھائی کی نگرانی رکھیں گے اور ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ زیاده ﻻئیں گے۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جب انہوں نے اپنا اسباب کھوﻻ تو اپنا سرمایہ موجود پایا جو ان کی جانب لوٹا دیا گیا تھا۔ کہنے لگے اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہیئے[1] ۔ دیکھئے تو یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کو رسد ﻻدیں گے اور اپنے بھائی کی نگرانی رکھیں گے اور ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ زیاده ﻻئیں گے[2]۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے.[3]

حواشی

[1] یعنی بادشاہ کے اس حسن سلوک کے بعد، کہ اس نے ہماری خاطر تواضع بھی خوب کی اور ہماری پونجی بھی واپس کر دی، اور ہمیں کیا چاہیئے۔ [2] کیونکہ فی کس ایک اونٹ جتنا بوجھ اٹھا سکتا تھا، غلہ دیا جاتا تھا، بنیامین کی وجہ سے ایک اونٹ کے بوجھ بھر غلہ مزید ملتا۔ [3] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بادشاہ کے لئے ایک بار شتر غلہ کوئی مشکل بات نہیں ہے، آسان ہے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ ذَلِك کا اشارہ اس غلے کی طرف ہے جو ساتھ لائے تھے۔ اور يَسِيرٌ بمعنی قَلِيلٍ ہے یعنی جو غلہ ہم ساتھ لائے ہیں قلیل ہے بنیامین کے ساتھ جانے سے ہمیں کچھ غلہ اور مل جائے گا تو اچھی ہی بات ہے ہماری ضرورت زیادہ بہتر طریقے سے پوری ہو سکے گی۔