سورہ Yusuf — آیت 31

یوسف · 12:31 · 31/111

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ

Falamma samiAAat bimakrihinna arsalatilayhinna waaAAtadat lahunna muttakaan waatat kulla wahidatinminhunna sikkeenan waqalati okhruj AAalayhinna falammaraaynahu akbarnahu waqattaAAna aydiyahunna waqulna hashalillahi ma hatha basharan in hathailla malakun kareem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے

محمد جوناگڑھی

اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اس نے جو اُن کی یہ مکّارانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چھُری رکھ دی۔ (پھر عین اُس وقت جب کہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں)اس نے یُوسُف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب ان عورتوں کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پُکار اُٹھیں”حاشالِلّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر جب اس نے سنیں ان کی مکارانہ باتیں اس نے دعوت دی ان سب کو اور اہتمام کیا ایک تکیہ دار مجلس کا اور ان میں سے ہر عورت کو اس نے ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا کہ اب تم ان کے سامنے آؤ پھر جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو اسے بہت عظیم جانا (ششدر رہ گئیں) اور ان سب نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور وہ پکار اٹھیں کہ حاشا للہ یہ کوئی آدمی تو نہیں ! یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے