سورہ Yusuf — آیت 110
یوسف · 12:110 · 110/111
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ
Hatta itha istay-asa arrusuluwathannoo annahum qad kuthiboo jaahumnasruna fanujjiya man nashao walayuraddu ba'suna AAani alqawmi almujrimeen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب رسول ناامید ہونے لگے اور وه (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹ کہا گیا۔ فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آپہنچی جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی۔ بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گناهگاروں سے واپس نہیں کیا جاتا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہوگئے اور لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی پس بچالیا گیا ان کو جن کو ہم نے چاہا۔ اور ہمارا عذاب پھیرا نہیں جاسکتا مجرم قوم سے