سورہ Yunus — آیت 10

یونس · 10:10 · 10/109

دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَـٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

DaAAwahum feeha subhanakaallahumma watahiyyatuhum feeha salamunwaakhiru daAAwahum ani alhamdu lillahirabbi alAAalameen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے

محمد جوناگڑھی

ان کے منھ سے یہ بات نکلے گی سبحان اللہ اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم اور ان کی اخیر بات یہ ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہاں اُن کی صدا یہ ہوگی کہ”پاک ہے تُو اے خدا“، اُن کی یہ دُعا ہوگی کہ ”سلامتی ہو“ اور اُن کی ہر بات کا خاتمہ اِس پر ہو گا کہ ”ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اس میں ان کا ترانہ ہوگا : اے اللہ تو پاک ہے اور اس میں ان کی (آپس کی) دعا سلام ہوگی۔ اور ان کی دعا اور مناجات کا اختتام (ہمیشہ ان کلمات پر) ہوگا کہ کل حمد اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ان کے منھ سے یہ بات نکلے گی سبحان اللہ[1] اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم[2] اور ان کی اخیر بات یہ ہوگی تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔

حواشی

[1] یعنی اہل جنت اللہ کی حمد و تسبیح میں ہر وقت تعریف کرتے رہیں گے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ”اہل جنت کی زبانوں پر تسبیح و تحمید کا اس طرح الہام ہوگا جس طرح سانس کا الہام کیا جاتا ہے“۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنة وصفة نعیمها، باب فی صفات الجنة وأهلهأ وتسبیحهم فیها بکرة وعشیا) یعنی جس طرح بے اختیار سانس کی آمدورفت رہتی ہی، اسی طرح اہل جنت کی زبانوں پر بغیر اہتمام کے حمدو تسبیح الٰہی کے ترانے رہیں گے۔ [2] یعنی ایک دوسرے کو اس طرح سلام کریں گے، نیز فرشتے بھی انہیں سلام عرض کریں گے۔