سورہ Sad — آیت 8
صٓ · 38:8 · 8/88
أَءُنزِلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ مِنۢ بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّن ذِكْرِى ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا۟ عَذَابِ
Aonzila AAalayhi aththikru minbaynina bal hum fee shakkin min thikree bal lammayathooqoo AAathab
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اُتری ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں۔ بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
محمد جوناگڑھی
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟“اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ”ذِکر“ پر شک کر رہے ہیں، اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نےمیرے عذاب کا مزا چکھّا نہیں ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کیا اسی پر نازل ہوا ہے یہ ذکر ہمارے درمیان ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے معاملے میں شک میں پڑگئے ہیں بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے[1] ؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں[2]، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی مکے میں بڑے بڑے چودہری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی ورسالت کے لئے محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہےخوئے بدر ابہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ زخرف: 32-31۔ [2] یعنی ان کا انکاراس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی ریب وشک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایاں توحید کی دعوت ہے۔ [3] کیونکہ عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اتنی واضح چیز کی تکذیب نہ کرتے۔ اور جب یہ اس تکذیب کا واقعی مزہ چکھیں گے تو وہ وقت ایسا ہوگا کہ پھر نہ تصدیق کام آئے گی، نہ ایمان ہی فائدہ دے گا۔