سورہ Saba — آیت 52

سبا · 34:52 · 52/54

وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ

Waqaloo amanna bihiwaanna lahumu attanawushu min makaninbaAAeed

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے

محمد جوناگڑھی

اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوب چیز) کیسے ہاتھ آسکتی ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس وقت یہ کہیں  گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے۔ حالانکہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں  ہاتھ آسکتی ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور (اُس وقت) وہ کہیں گے کہ اب ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور (اُس وقت) کہاں ہوگی ان کی رسائی (ایمان تک) اتنی دور کی جگہ سے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اس وقت کہیں گے کہ ہم اس قرآن پر ایمان ﻻئے لیکن اس قدر دور جگہ سے (مطلوب چیز) کیسے ہاتھ [1] آسکتی ہے.

حواشی

[1] تَنَاوُشٌ کے معنی تناول یعنی پکڑنے کے ہیں یعنی اب آخرت میں انہیں ایمان کس طرح حاصل ہوسکتا ہے جب کہ دنیا میں اس سے گریز کرتے رہے گویا آخرت ایمان کے لئے، دنیا کےمقابلے میں دور کی جگہ ہے، جس طرح دور سےکسی چیز کو پکڑنا ممکن نہیں، آخرت میں ایمان لانے کی گنجائش نہیں۔