سورہ Saba — آیت 14

سبا · 34:14 · 14/54

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُۥ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٱلْغَيْبَ مَا لَبِثُوا۟ فِى ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ

Falamma qadaynaAAalayhi almawta ma dallahum AAala mawtihi illadabbatu al-ardi ta'kulu minsaatahu falammakharra tabayyanati aljinnu an law kanoo yaAAlamoonaalghayba ma labithoo fee alAAathabi almuheen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

محمد جوناگڑھی

پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم بھیج دیا تو ان کی خبر جنات کو کسی نے نہ دی سوائے گھن کے کیڑے کے جو ان کی عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب (سلیمان) گر پڑے اس وقت جنوں نے جان لیا کہ اگر وه غیب دان ہوتے تو اس کے ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جِنّوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھُن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جِنّوں پر یہ بات کھُل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلّت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر جب ہم نے اس ؑ پر موت طاری کردی تو کسی نے ان (جنات) کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے جو اس ؑ کے عصا کو کھاتا تھا پھر جب وہ گرپڑا توجنوں پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔