سورہ Saba — آیت 13
سبا · 34:13 · 13/54
يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَـٰرِيبَ وَتَمَـٰثِيلَ وَجِفَانٍ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَـٰتٍ ۚ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ
YaAAmaloona lahu ma yashao minmahareeba watamatheela wajifanin kaljawabiwaqudoorin rasiyatin iAAmaloo ala dawoodashukran waqaleelun min AAibadiya ashshakoor
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
محمد جوناگڑھی
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اُونچی عمارتیں، تصویریں ، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں ۔۔۔۔ اے آلِ داوٴدؑ ، عمل کرو شکر کے طریقے پر ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا تھا بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں اے دائود ؑ کے گھر والو ! عمل کرو شکر ادا کرتے ہوئے } اور (واقعہ یہ ہے کہ) میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہی ہیں۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں[1] ، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں.
حواشی
[1] مَحَارِيبَ، مِحْرَابٌ کی جمع ہے، بلند جگہ یا اچھی عمارت، مطلب ہے بلند محلات، عالی شان عمارتیں یا مساجد ومعابد تَمَاثِيلَ، تِمْثَالٌ کی جمع ہے، تصویر۔ یہ تصویریں غیر حیوان چیزوں کی ہوتی تھیں، بعض کہتے ہیں کہ انبیا وصلحا کی تصاویر مسجدوں میں بنائی جاتی تھیں تاکہ انہیں دیکھ کر لوگ بھی عبادت کریں۔ یہ معنی اس صورت میں صحیح ہے جب تسلیم کیا جائے کہ حضرت سلیمان (عليه السلام) کی شریعت میں تصویر سازی کی اجازت تھی۔ جو صحیح نہیں۔ تاہم اسلام میں تو نہایت سختی کے ساتھ اس کی ممانعت ہے۔ جِفَانٌ، جَفْنَةٌ کی جمع ہے، لگن جَوَابٍ، جَابِيةٌ کی جمع ہے، حوض، جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے۔ یعنی حوض جتنے بڑے بڑے لگن، قُدُورٌ دیگیں، رَاسِيَاتٌ جمع ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیگیں پہاڑوں کو تراش کر بنائی جاتی تھیں۔ جنہیں ظاہر ہے اٹھا کر ادھر ادھر نہیں لے جایا جاسکتا تھا، اس میں بیک وقت ہزاروں افراد کا کھانا پک جاتا تھا۔ یہ سارے کام جنات کرتے تھے۔