سورہ Maryam — آیت 23
مریم · 19:23 · 23/98
فَأَجَآءَهَا ٱلْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ ٱلنَّخْلَةِ قَالَتْ يَـٰلَيْتَنِى مِتُّ قَبْلَ هَـٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا
Faajaaha almakhadu ilajithAAi annakhlati qalat ya laytaneemittu qabla hatha wakuntu nasyan mansiyya
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی
محمد جوناگڑھی
پھر درِد زه ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجُور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی”کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر لے آیا اسے درد زہ ایک کھجور کے تنے کے پاس۔ (اس کیفیت میں) اس نے کہا : کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور ایک بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتی
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر درِد زه ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی.[1]
حواشی
[1] موت کی آرزو اس ڈر سے کی کہ میں بچے کے مسئلے پر لوگوں کو کس طرح مطمئن کر سکوں گی، جب کہ میری بات کی کوئی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا۔ اور یہ تصور بھی روح فرسا تھا کہ کہاں شہرت ایک عابدہ وزاہدہ کے طور پر ہے اور اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں بدکار ٹھہروں گی۔