سورہ Luqman — آیت 14

لقمان · 31:14 · 14/34

وَوَصَّيْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ بِوَٰلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُۥ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَـٰلُهُۥ فِى عَامَيْنِ أَنِ ٱشْكُرْ لِى وَلِوَٰلِدَيْكَ إِلَىَّ ٱلْمَصِيرُ

Wawassayna al-insanabiwalidayhi hamalat-hu ommuhu wahnan AAalawahnin wafisaluhu fee AAamayni ani oshkur lee waliwalidaykailayya almaseer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور( آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

محمد جوناگڑھی

ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھاکر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے ہم نے ان کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) کمزوری پر کمزوری جھیل کر اور اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں کہ تم شکر کرو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہوگا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی[1] ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر[2] اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے[3] کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے.

حواشی

[1] توحید وعبادت الٰہی کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید سےاس نصیحت کی اہمیت واضح ہے۔ [2] اس کا مطلب ہے کہ رحم مادر میں بچہ جس حساب سے بڑھتا جاتا ہے، ماں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے جس سے عورت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ماں کی اس مشقت کے ذکر سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرتے وقت ماں کو مقدم رکھا جائے، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے۔ [3] اس سے معلوم ہوا کہ مدت رضاعت دو سال ہے، اس سے زیادہ نہیں۔