سورہ Luqman — آیت 13

لقمان · 31:13 · 13/34

وَإِذْ قَالَ لُقْمَـٰنُ لِٱبْنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَـٰبُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱلشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

Wa-ith qala luqmanu libnihiwahuwa yaAAithuhu ya bunayya latushrik billahi inna ashshirka lathulmunAAatheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

محمد جوناگڑھی

اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اُس نے کہا ”بیٹا !خُدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے سے جبکہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا اے میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا۔ یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا[1] بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے.[2]

حواشی

[1] اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت یہ نقل فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں۔ [2] یہ بعض کے نزدیک حضرت لقمان ہی کا قول ہے اور بعض نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں وہ حدیث پیش کی ہے جو «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ» کے نزول کے تعلق سے وارد ہے جس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تھا کہ یہاں ظلم سے مراد عظیم ہے اور آیت «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» کا حوالہ دیا۔ (صحیح بخاری نمبر 4776) مگر درحقیقت اس سے اللہ کا قول ہونے کی نہ تائید ہوتی ہے نہ تردید۔